پٹنہ24اگست (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) پٹنہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو مظفرپورشیلٹر ہوم میں ہوئے جنسی تشدد کے معاملے میں ہو رہی انکوائری کو کور کرنے اور رپورٹنگ سے میڈیا پر قدغن لگادی ہے ۔ اس کے علاوہ عدالت نے سی بی آئی ایس پی جے پی مشرا کے ٹرانسفر پرعدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ،جو تفتیشی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ عدالت نے جانچ کی اطلاعات کے لیک ہونے کو لے کر بھی ناراضگی ظاہر کی اور میڈیا سے کہا کہ وہ اسے شائع کرنے سے گریز کرے کیونکہ یہ شائع شدہ رپورٹ تفتیش میں مضر ثابت ہوسکتا ہے ۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق عدالت نے کہا کہ جب تک اس معاملے کی تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی، کسی بھی حالت میں تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اس معاملے میں رپورٹنگ کرنے سے روکا جانا لازم ہے ۔ رپورٹنگ پر لگی قدغن کے حکم پر بہار کے ایڈووکیٹ للت کشور نے ریاست کے چیف سکریٹری، داخلہ سکریٹری اور سماجی بہبود کے سیکرٹری سے فوری طور پر معاملے میں رپورٹنگ سے میڈیا کو روکنے پر عدالت کے حکم کی تعمیل کرنے کے لئے کہا ہے۔ چیف جسٹس مکیش آر شاہ اور جسٹس ڈاکٹر روی رنجن نے زبانی حکم میں کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ اب تک مہر کی گئی اسٹیٹس رپورٹ عدالت کو نہیں سونپی گئی ہے۔ معاملے سے منسلک ایک سنگین شکایت تفتیشی افسر ایس پی جے پی مشرا کے تبادلے سے منسلک ہے جو تحقیقات شروع ہوتے ہی کیا گیا ۔
واضح ہو کہ سی بی آئی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے 21 اگست کو جاری ایک حکم کے ذریعے جے پی مشرا کا تبادلہ خصوصی کرائم برانچ میں کر انہیں پٹنہ واقع ڈی آئی جی آفس سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کو عدالت نے سی بی آئی سے کہا ہے کہ 27 اگست کو ہونے والی اگلی سماعت میں ایس پی مشرا کے ٹرانسفر کا سبب واضح کرے۔ بہار میں اپوزیشن جماعتوں نے اس پر تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ اس سے انکوائری منفی طور پر متاثر ہوگی۔ سی بی آئی ایس پی کے ٹرانسفر کو لے کر بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ٹوئٹ کرکے نتیش کمار پر نشانہ لگایا ہے۔
انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ بہار کے گورنر کے بعد اب نتیش کمار کو سی بی آئی کے ایس پی کو ٹرانسفر ملا ہے۔ وہ پٹنہ ہائی کورٹ میں شیلٹر ہوم اسکینڈل کی رپورٹ پیش کرنے والے تھے، مگر اب تفتیش ’’پٹنہ سر‘‘ کے پاس پہنچ گئی، جس کا ذکر برجیش ٹھاکر کی ڈائری میں ہے۔
نجی ٹی ویNDTV INDIA کی خبر کے مطابق جنتا دل یونائٹیڈ کے ترجمان نیرج کمار نیتیجسوی یادو کے حملے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کی جانچ پٹنہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں کی نگرانی میں چل رہی ہے۔ اگرتیجسوی یادو کو اپنی بات میں دم لگتا ہے تو وہ اگلی سماعت کے دوران وکیل کے ذریعے عدالت کے سامنے معاملہ لا سکتے ہیں۔ عدلیہ کو اگر صحیح لگے گا تو وہ ایس پی جے پی مشرا کا تبادلہ روک سکتی ہے۔اس کیس میں شیلٹرہوم کے منتظم برجیش ٹھاکر، جس کے این جی اوکے زیر اہتمام شیلٹرہوم چلاکرتا تھا، سمیت کل 10 ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی ہے ۔
سی بی آئی نے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے اور نئے سرے مقدمہ درج کیا ہے۔ اسی اسکینڈل کی وجہ سے سماجی بہبود کے وزیر منجو ورما کو استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔ معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں نے منجو ورما کے شوہر چندرشیکھر ورما کے ملوث ہونے کا دعوی کیا تھا، جسے منجو ورما نے خارج کر دیا تھا۔